یہ بات درست ہے کہ طالبان حکومت کے دور میں افغانستان میں اہل تشیع پر حد سے زیادہ مظالم ڈھائے گئے تھے۔ لیکن اب وہ بظاہر یہ بات سمجھ چکے ہیں کہ شیعہ سنی اتحاد ہی سے افغانستان میں امریکی طاغوت کو سرنگوں کیا جاسکتا ہے۔ ہاں البتہ جہاں تک پاکستانی طالبان کا تعلق ہے وہ تو ویسے ہی شیعہ قتل کرو پالیسی پر عمل پیرا ہیں اور یہ حقیقت ان کے کرتوتوں سے بھی واضح ہے۔ انھوں نے پاکستان میں کبھی غلطی سے بھی امریکی مفادات کیخلاف کوئی سرگرمی نہیں دکھائی۔ جس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں موجود طالبان، اصل میں امریکہ ،اسرائیل اور ہندوستان کے مفادات کیلئے کام کرنے پر مامور ہیں۔ پاکستانی طالبان پاکستان میں ہر وہ کام کرتے ہیں جس سےاس ملک کی بقاء کو خطرہ لاحق ہو کیونکہ یہ ان کا فریضۂ منصبی ہے اور ڈالرز یا ریالات و دراہم اسی فریضے پر عمل کرکے ہی مل سکتے ہیں!کابل میں عزادران حسین علیہ السلام پر خودکش حملہ ایک ایسے وقت کیا گیا۔کہ ہر طرف سے امریکہ پر خصوصا امریکی عوام کیطرف سے، افغانستان سے نکلنے کیلئے دباؤ بڑھ رہا ہے۔ اور دوسری طرف وال اسٹریٹ پر قبضہ کرو تحریک بھی روز بروز بڑھتی ہی جارہی ہے، اس کے علاوہ مشرق وسطی کے لمحوں میں بدلتے ہوئے حالات نے بھی شیطان بزرگ امریکہ کو پریشان کررکھا ہے لہذا وہ افغانستان سے نکلنے کے راستے بھی ڈھونڈ رہا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ افغانستان کو ایسے حالت میں چھوڑنا چاہتا ہے کہ اس ملک میں اندرونی سطح پر شیعہ سنی فسادات کا بازار گرم ہو جائے جبکہ اس سے پہلے مکار لومڑی برطانیہ نے افغانستان کو لسانی اور قومی و قبائلی تعصبات میں مبتلا کررکھا ہے جس کی وجہ سے وہاں قوموں اور قبائل کے درمیان اختلافات ہمیشہ کے لئے موجود رہتے ہیں اور یہ اختلاف آج بھی حتی ملک کے سیاسی اور انتظامی ڈھانچـے میں دکھائی دے سکتے ہیں؛ اور اب امریکہ جانے سے پہلے افغانستان کوایک نئے وائرس یعنی مذہبی فرقہ پرستی میں مبتلا کرنا چاہتا ہے۔افغانستان کی تاریخ گواہ ہے کہ اس ملک میں فرقہ واریت کی بنیاد پر کم ہی کوئی لڑائی جھگڑا رونما ہوا ہے۔ اس جنگ زدہ ملک میں عشروں سے جاری لڑائی میں اولیت لسانیت اور قوم و قبیلوں کی لڑائیوں کو حاصل ہے؛ گوکہ شیطان بزرگ امریکہ کے پیدا کردہ طالبان دور میں شیعہ نسل کشی کی گئی لیکن وہ بھی ایک لڑائی نہیں تھی بلکہ یکطرفہ نسل کشی تھی۔امریکہ کابل، قندہار اور مزار شریف میں بیک وقت مذموم دہشت گردانہ کاروائیوں سے کئی مقاصد حاصل کرنا چاہتا ہے:ایک تو یہ کہ سابق صدر برہان الدین کے قتل کو پاکستان کے کھاتے میں ڈالنے کیلئے مزید ثبوت فراہم کئے جائیں کیونکہ جیسے ہی کابل میں عزادران حسین ع پر خودکش حملہ ہوا، پاکستان میں امریکی و اسرائیل مفادات کی تحفظ پر مامور کالعدم دہشت گرد ٹولے لشکر جھنگوی نے اس کی ذمہ داری قبول کرلی اور شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ لشکر جھنگوی نے اس حملے کی ذمہ داری اس لئے قبول کی ہے کہ افغانستان اور پاکستان کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہو، جس سے یہ بھی فائدہ ہوگا کہ امریکہ جب افغانستان سے نکلے گا تو پاکستان کیساتھ افغانستان کے خراب تعلقات کا سارا فائدہ ہندوستان اُٹھائے گا جو جنوبی ایشا میں پاکستان اور چین کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کا سب سے بڑا پارٹنر ہے۔افغانستان میں ہونے والے دھماکوں سے واضح طور پر اندازہ ہورہا ہے کہ جن لوگوں نے سابق صدر برہان الدین ربانی کو قتل کیا ہے اُن ہی لوگوں نے یہ دھماکہ بھی کیا اور جس طرح کہ ربانی پر حملہ آخر کار امریکہ کے مفاد میں تھا یہ حملے بھی امریکی مفاد میں انجام پائے ہیں اور منطق و عقلیت کا حکم یہ ہے کہ جس شخص کو کسی عمل سے فائدہ مل رہا ہو اس عمل کا فاعل و عامل وہی شخص ہوسکتا ہے یا پھر اس کے کارندے اس میں ملوث ہوسکتے ہیں چنانچہ ربانی قتل اور عاشورا دھماکے اسی قوت کے ہوسکتے ہیں جس کو اس سے فوائد ملے ہیں اور وہ قوت شیطان بزرگ کے سوا کوئی نہیں ہے۔جو امریکہ شیطان کے علاوہ کوئی اور نہیں۔اس کے علاوہ امریکہ پاکستان کو نیٹو سپلائی بند کرنا اور جرمنی میں منقعدہ بون کانفرنس میں شرکت نہ کرنے کی سزا بھی دینا چاہتا ہے کیونکہ امریکہ کو یہ توقع نہیں تھی کہ پاکستان جیسا ملک بھی وقتی طور ہی سہی، اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرے گا۔ اگرچہ پاکستانی حکمرانوں نے ایسا کچھ نہیں کیا ہے اور اگر تھوڑا بہت کیا بھی ہے تو وہ عوامی رائے عامہ کے دباؤ کی وجہ سے ہے۔عاشورا حملوں کے ذریعے امریکہ ایک مقصد یہ بھی تھا کہ وہ ان حملوں کے ذریعے افغانستان میں اپنی ناکامی کو فرقہ وارانہ فسادات کے ذریعے چھپانا چاہتا ہے تاکہ کل اپنی صفائی پیش کرنے کے لئے دعوی کرسکیں کہ امریکی افواج افغانستان سے طالبان اور القاعدہ کا صفایا کرنے کے اپنے مقصد میں کامیاب ہوچکی ہیں اب اس ملک کو فرقہ وارایت کا سامنا ہے تو یہ مسئلہ افغانستان کا اندرونی مسئلہ ہے اور افغان حکومت کو خود ہی اپنا اندرونی مسئلہ حل کرنا چاہئے۔ یہ تو امریکی مقاصد تھے جس کے حصول کے لئے اس کے نزدیک کسی قسم کی اقدار اور معیار کی ضرورت نہیں ہے اور وہ اس راہ میں انسانوں پر ایٹم بم بھی برسا سکتا ہے لیکن اس میں کوئی شک نہيں ہے کہ ہماری بھی کچھ ذمہ داریاں ہیں اور ان ذمہ داریوں میں دشمن شناسی شامل ہے اور پھر دشمن کی سازشیں ناکام کرنی ذمہ داری ہے جو ہر اس فرد پر عائد ہوتی ہے جو مسلمان کہلاتا اور کہلواتا ہے چاہے وہ سنی ہو یا شیعہ، اور دشمن شناسی کے بعد اتحاد کا مرحلہ ہے کہ جب معلوم ہوجائے کہ جانے پہچانے دشمن کا نشانہ تمام اہلیان قبلہ ہیں تو ان سب کو مل کر اس دشمن کی سازشوں کو ناکام بنانا چاہئے اور روئے زمین پر ایسا افغانستان ابھارنا چاہئے جو شیعہ سنی اتحاد کو بنیاد بنا کر اپنے ہی پاؤں پر کھڑا ہوسکے۔ یہ آج ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ تمام مسلمانوں کے دشمن شناسی کے سلسلے میں مدد پہنچانے کی غرض سے دشمنان اسلام کے تمام چہرے بے نقاب اور تمام سازشیں افشاء کردیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
7 دسمبر 2011 - 20:30
News ID: 282853
افغانستان کے صدر مقام شہر کابل میں یوم عاشورا عزادران حسین علیہ السلام پرخودکش حملہ ایک سوچے سمجھے سازش کے تحت کیا گیا جس میں سو فیصد شیطان بزرگ امریکہ ملوث ہے؛ کیونکہ طالبان نے دھماکے کے فوراً بعد اس کی بھرپور مذمت کی اور پھر طالبان اس وقت ملک میں شیعہ سنی جنگ کرنے کی پوزیشن میں بھی نہیں ہیں۔